قیامت کبری

قسم کلام: اسم کیفیت ( واحد )

معنی

١ - بہت بڑی قیامت، سب سے بڑی قیامت، وہ دن جب تمام مخلوقات کو زندہ کر کے ان کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی؛ (مجازاً) سخت مصیبت۔ " "قیامت کبریٰ" اسی دن ہو گی جب ہم مریں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، مضامین شرر، ٣٩٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قیامت' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی زبان سے ہی صفت 'کبریٰ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٢ء میں "دیوان برق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہت بڑی قیامت، سب سے بڑی قیامت، وہ دن جب تمام مخلوقات کو زندہ کر کے ان کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی؛ (مجازاً) سخت مصیبت۔ " "قیامت کبریٰ" اسی دن ہو گی جب ہم مریں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، مضامین شرر، ٣٩٣ )